(آیت 12) ➊ {وَاَطِيْعُوااللّٰهَوَاَطِيْعُواالرَّسُوْلَ:} سلسلۂ کلام کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مصیبت آنے پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ موڑو، بلکہ تمام حالات میں، اچھے ہوں یا برے، اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ {”اَطِيْعُوْا“} کو {”الرَّسُوْلَ“} کے ساتھ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم مستقل شریعت ہے اسی طرح رسول کا حکم بھی مستقل شریعت ہے، دونوں میں سے کسی کی مخالفت کی گنجائش نہیں۔ دوسرے لوگ جن کا حکم مانا جاتا ہے وہ یہ مقام نہیں رکھتے، ان کا وہی حکم مانا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس نکتے کی وضاحت سورۂ نساء کی آیت (۵۹): «اَطِيْعُوااللّٰهَوَاَطِيْعُواالرَّسُوْلَوَاُولِيالْاَمْرِمِنْكُمْ» سے ہوتی ہے کہ{”اُولِيالْاَمْرِ“} کے ساتھ {”اَطِيْعُوْا“} کو دوبارہ نہیں لایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورہ نساء(۵۹) کی تفسیر۔ ➋ { فَاِنْتَوَلَّيْتُمْفَاِنَّمَاعَلٰىرَسُوْلِنَاالْبَلٰغُالْمُبِيْنُ:} پھر اگر مصیبتوں سے گھبرا کر تم نے اطاعت سے منہ موڑ لیا تو اپنا ہی نقصان کروگے، ہمارے رسول کے ذمے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام صاف صاف تم تک پہنچا دیں، سو وہ اس نے پہنچا دیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں