اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کا رسول تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ منہ پھیر لیں گے، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والے ہیں۔
En
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
(آیت 5) ➊ {وَاِذَاقِيْلَلَهُمْتَعَالَوْايَسْتَغْفِرْلَكُمْ …: ”لَوَّوْا“”لَوٰييَلْوِيْلَيًّا“} (ض) (پھیرنا) سے باب تفعیل ہے، جس سے سر پھیرنے میں مبالغہ یا اس کا تکرار مقصود ہے۔ آیت (۷) میں اس کا سبب نزول آ رہا ہے۔ ➋ {وَرَاَيْتَهُمْيَصُدُّوْنَوَهُمْمُّسْتَكْبِرُوْنَ: ”صَدَّيَصُدُّصَدًّاوَصُدُوْدًا“ (ن)”صَدًّا“} (لازم) روکنا اور {”وَصُدُوْدًا“} (متعدی) اعراض کرنا، منہ پھیر لینا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر معذرت کر لینے کی ترغیب پر تم انھیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔