ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصف (61) — آیت 7

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جب کہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
اس شخص سے زیاده ﻇالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ (افترا) باندھے حاﻻنکہ وه اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ﻇالموں کو ہدایت نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعٰۤى …:} یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اسلام میں داخل ہونے کی اور اللہ کا فرماں بردار بن جانے کی دعوت دی جا رہی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے۔ اللہ پر جھوٹ یہ ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے رسول کو، جس کی بشارت اس سے پہلے ان کے نبی عیسیٰ و موسیٰ علیھما السلام دے چکے تھے، انھوں نے جادوگر اور اس کی لائی ہوئی بینات کو جادو کہہ دیا۔ دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھنے والے ایسے ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ یہی مضمون سورۂ انعام (21،20) میں بیان ہوا ہے۔