ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصف (61) — آیت 11

تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ En
(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
En
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ …:} یہ اس تجارت کی تفسیر ہے، یعنی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ { تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ } فعل مضارع فعل امر کے معنی میں ہے، اسے مضارع لانے سے امر کی تاکید مقصود ہے، جیسا کہ کسی کام کی تاکید مقصود ہو تو یہ کہنے کے بجائے کہ یہ کام کرو، کہا جاتا ہے کہ تم یہ کام کرو گے۔