ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 88

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾
یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقینا ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ En
یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے
En
اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 88) {وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ …:} اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر، ان کے ساتھ ان کے آباء، اولاد اور اخوان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر بفرض محال نبی یا اس کے قرابت دار بھی شرک کر بیٹھتے تو ان کا کیا کرایا سب ضائع ہو جاتا۔ کیونکہ شرک کے ساتھ کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی قبول نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ» [الزمر: ۶۵] اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا بھی تمام عمل ضائع ہو جائے گا۔ پیغمبر سے شرک ہونا تو ممکن نہیں، یہ سب کچھ امتیوں کو سنایا جا رہا ہے۔