اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا، اس نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ یقینا اس نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں اس سے نہیں ڈرتا جسے تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ چاہے، میرے رب نے ہر چیز کا احاطہ علم سے کر رکھا ہے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
En
اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔
اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کیا، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے حجت کرتے ہو حاﻻنکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلا دیا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے
En
(آیت 80) ➊ {وَحَآجَّهٗقَوْمُهٗ …:} قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کے بہت سے دلائل پیش کیے، مثلاً انھوں نے ایک دلیل یہ پیش کی: «اِنَّاوَجَدْنَاۤاٰبَآءَنَاعَلٰۤىاُمَّةٍ» [الزخرف: ۲۲]”بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے۔“ نیز ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی دی کہ یہ بت تمھیں آفات اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ فرما کر {”وَقَدْهَدٰىنِ“} (اللہ نے مجھے سیدھا راستہ بتا دیا ہے) ان کی پہلی دلیل کا جواب دیا کہ یقینی دلیل کے مقابلے میں تمھارے باپ دادا کا دین بے معنی ہے اور ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچنی ہو تو پہنچ سکتی ہے مگر یہ تمھارے بت اور جھوٹے پروردگار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (رازی) ➋ {وَسِعَرَبِّيْكُلَّشَيْءٍعِلْمًا:} ہر چیز کی حقیقت و اصلیت کا علم میرے رب کو ہے، اس لیے وہی بتا سکتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے، جب اس نے مجھے ہدایت کا علم عطا فرما دیا ہے تو پھر ہدایت کوئی اور چیز کیسے ہو سکتی ہے، تو کیا تم اتنا بھی نہیں سوچتے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔