ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 67

لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ہر خبر کے لیے واقع ہونے کا ایک وقت ہے اور تم عنقریب جان لو گے۔ En
ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا
En
ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت ہے اور جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) {لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ …:} اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہو سکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چنانچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہو جائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمھیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔