(آیت 66) {وَكَذَّبَبِهٖقَوْمُكَ:} تیری قوم نے اسے جھٹلا دیا۔ اس{ ”بِهٖ“} کی ضمیر سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے اور اوپر کی آیات میں مذکور عذاب بھی۔ «قُلْلَّسْتُعَلَيْكُمْبِوَكِيْلٍ» یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمھارے جھٹلا دینے اور بد تمیزی کرنے پر خود عذاب نازل کر دوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور نہ ماننے والوں کو اس کی سزا بتا دوں، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس سے بچنے کی فکر کرنا تمھارا کام ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔