ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 42

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر انھیں تنگ دستی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ عاجزی کریں۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں
En
اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وه اﻇہار عجز کرسکیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43,42){ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ …:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دل ایسے سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے بداعمال کو ان کے لیے ایسا خوبصورت بنا دیا کہ وہ اللہ کا عذاب آنے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دنیاوی اسباب ہی کو اس عذاب کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔ حالانکہ مصائب و آفات بھیجنے کا مقصد لوگوں کو اپنی روش سے باز آنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ اس موقع کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ کیا آج کل ہم مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال نہیں ہو گیا کہ جب کوئی جنگ یا قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو ہم میں سے کئی افراد اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بے وقوفی قرار دیتے ہیں، خصوصاً منکرین حدیث اور کفار سے مرعوب لوگوں کا یہی حال ہے۔