ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 156

اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ
ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ En
(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے
En
کہیں تم لوگ یوں نہ کہو کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے تھے ان پر نازل ہوئی تھی، اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے محض بے خبر تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 156) {اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ ……:} تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہماری طرف تو کوئی کتاب آئی ہی نہیں، کتاب تو صرف ہم سے پہلے دو گروہوں یہود و نصاریٰ پر اتری اور وہ صرف ان کے لیے تھی اور انھوں نے ہمیں دعوت بھی نہیں دی کہ ہم ان سے پڑھ کر ایمان لے آتے، بلکہ وہ اسے بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دیتے رہے، ہم بھی اسے ان کے ساتھ مخصوص سمجھ کر اور کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے اسے پڑھنے سے بے خبر رہے، ورنہ زبان نہ جاننا تو کوئی معقول عذر نہیں کیونکہ جب معلوم ہو جائے کہ اﷲ کا حکم آیا ہے تو آدمی کسی سے سمجھ بھی سکتا ہے۔