ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 3

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ﴿۳﴾
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا لکھ دیا تھا تو یقینا وہ انھیں دنیا میں سزا دیتا اور ان کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ En
اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا۔ اور آخرت میں تو ان کے لئے آگ کا عذاب (تیار) ہے
En
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا، اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ …: جَلَا يَجْلُوْ جَلاَءً (ن) اَلرَّجُلَ} آدمی کو اس کے شہر سے نکال دینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق پہلے سے فیصلہ انھیں جلا وطن کرنے پر اکتفا کا تھا، تاکہ انھیں عبرت ہو اور وہ اپنی اصلاح کر سکیں۔ اگر اس نے پہلے یہ نہ لکھا ہوتا تو انھیں دنیا ہی میں عذاب دیتا، ان کے مرد قتل کیے جاتے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیا جاتا، جیسے بعد میں بنو قریظہ کو عبرت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۰۳۲) یہاں ایک سوال ہے کہ جلا وطنی بھی تو عذاب ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ عذاب سے مراد جسمانی سزا ہے، جس کا احساس واضح اور شدید ہوتا ہے۔
➋ { وَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ:} یعنی اگر وہ جلا وطنی کی وجہ سے دنیا کے عذاب، قتل، اسیری اور غلامی سے بچ گئے تو بے فکر نہ ہوں، اگر وہ اسی طرح کفر پر قائم رہے تو ان کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب تیار ہے۔