اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔ اور یہ مثالیں ہیں، ہم انھیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ غور وفکر کریں۔
En
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے۔ اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں
En
(آیت 21) ➊ { لَوْاَنْزَلْنَاهٰذَاالْقُرْاٰنَعَلٰىجَبَلٍ …:} یعنی یہ یہود اور منافقین قرآن مجید کی آیات سننے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، حالانکہ وہ تو ایسی عظیم الشان اور پر تاثیر کتاب ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ بھی اللہ کے ڈر سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّقَسَتْقُلُوْبُكُمْمِّنْۢبَعْدِذٰلِكَفَهِيَكَالْحِجَارَةِاَوْاَشَدُّقَسْوَةً» [البقرۃ: ۷۴]”پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں یا سختی میں ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ادراک اور سوجھ بوجھ رکھی ہے۔ ان کے سامنے امانت پیش کی گئی، مگر وہ اس سے ڈر گئے اور انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ (دیکھیے احزاب: ۷۲) پہاڑوں اور جمادات میں ادراک کے وجود کے لیے سورۂ بقرہ (۷۳)، بنی اسرائیل (۴۴)، نحل (49،48) اور سورۂ ص (۱۸) کی تفا سیر پر نظر ڈال لیں۔ ➋ { وَتِلْكَالْاَمْثَالُنَضْرِبُهَالِلنَّاسِ …:} یعنی ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں کہ ایسی زبردست تاثیر والی چیز بھی ان کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی تو اس کا سبب کیا ہے، پھر اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔