ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 16

کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اکۡفُرۡ ۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶﴾
شیطان کے حال کی طرح، جب اس نے انسان سے کہا کفر کر، پھر جب وہ کفر کر چکا تو اس نے کہا بلاشبہ میں تجھ سے لاتعلق ہوں، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ En
منافقوں کی) مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں۔ مجھ کو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
En
شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب وه کفر کر چکا تو کہنے لگا میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ …:} یعنی بنو قریظہ کو لڑنے پر ابھارنے والے منافقوں کا حال شیطان کے حال جیسا ہے اور وہ انھیں اسی طرح بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جیسے شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے، پھر جب وہ اس کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کر لیتا ہے تو شیطان کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کتنے انسانوں کو اس طرح گمراہ کیا اور گمراہ کرنے کے بعد ان سے بری ہو گیا۔ قرآن مجید میں اس کی مثال دنیا میں بدر کے موقع پر شیطان کی کفارِ قریش کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر عین موقع پر فرار اختیار کرنا اور ان سے براء ت کا اظہار کرنا بیان ہوئی ہے (دیکھیے انفال: ۴۸) اور قیامت کے دن اس کا اپنے تمام پیروکاروں سے براء ت کا اعلان سورۂ ابراہیم (۲۲) میں مذکور ہے۔