ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 15

کَمَثَلِ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَرِیۡبًا ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۚ۱۵﴾
ان لوگوں کے حال کی طرح جو ان سے پہلے قریب ہی تھے، انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ En
ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
En
ان لوگوں کی طرح جو ان سے کچھ ہی پہلے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا اور جن کے لیے المناک عذاب (تیار) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ …: كَمَثَلِ الَّذِيْنَ } سے پہلے مبتدا محذوف ہے: {أَيْ مَثَلُهُمْ} یعنی ان بنو قریظہ کا حال جنھیں منافقین لڑنے پر ابھار رہے ہیں اور اپنی ہر طرح کی مدد کا یقین دلا رہے ہیں ان لوگوں کے حال جیسا ہے جو ان سے پہلے قریب ہی تھے۔ مراد ان سے بنو نضیر ہیں جنھوں نے اپنی بدعہدی کا وبال چکھا، وہ اپنی تمام تر قلعہ بندیوں، فوجی تیاریوں، بہادری کے دعوؤں اور منافقین و مشرکین کی امداد کے وعدوں کے باوجود پہلی چوٹ بھی نہ سہ سکے اور اپنی زمینیں، باغات اور مکانات مسلمانوں کے لیے چھوڑ کر ذلیل و رسوا ہو کر جلا وطن ہو گئے اور ان کے لیے آئندہ بھی دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا ہے۔