ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 16

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾
انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے
En
ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ {اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً …:} یعنی ایک طرف انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال بچانے کے لیے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر جب موقع ملتا ہے شکوک و شبہات پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روک دیتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (168،156)، نساء (۷۲) اور سورۂ احزاب (۱۸)۔
➋ { فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ:} دنیا میں یہ رسوائی کہ نہ مسلمانوں میں ان کی کوئی عزت ہے اور نہ کفار میں سے کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے { الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ } کی شکل میں عذاب تیار ہے۔