ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 18

اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
بلاشبہ صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جنھوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا، انھیں کئی گنا دیا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔ En
جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی۔ اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں ان کو دوچند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے
En
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے پسندیده اجر وﺛواب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ: الْمُصَّدِّقِيْنَ } اصل میں باب تفعّل سے { اَلْمُتَصَدِّقِيْنَ } ہے، تاء کو صاد سے بدل کر صاد میں ادغام کر دیا۔ صاد کی تشدید سے صدقے میں مبالغے اور کثرت کا اظہار مقصود ہے، یعنی بہت صدقہ کرنے والے مرد اور بہت صدقہ کرنے والی عورتیں۔ { الْمُزَّمِّلُ } اور{ الْمُدَّثِّرُ } میں بھی ایسے ہی ہے۔
➋ {وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ { اَقْرَضُوا اللّٰهَ } فعل کا { الْمُصَّدِّقِيْنَ } اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ { الْمُصَّدِّقِيْنَ } دراصل {اَلَّذِيْنَ تَصَدَّقُوْا} کے معنی میں ہے، اس لیے { اَقْرَضُوا } کا عطف {تَصَدَّقُوْا} پر ہے جو {مُتَصَدِّقِيْنَ} کے ضمن میں موجود ہے۔ {مُتَصَدِّقِيْنَ} کو اسم فاعل کی صورت میں دوام کے اظہار کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۱)کی تفسیر دیکھیے۔ البتہ یہاں { الْمُصَّدِّقِيْنَ } کے لفظ میں صدقے کی کثرت اور اس پر دوام کی بات اس سے زائد ہے۔