ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 17

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔ En
جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو
En
یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ {اِعْلَمُوْۤا: } جان لو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مرنے کے بعد زندہ کر دیتا ہے، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ» [البقرۃ: ۲۳۵] اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو۔ مقصد یہ ہے کہ یہ بات پوری توجہ سے سنو، اس پر غور کرو اور ہر وقت اسے پیشِ نظر رکھو۔
➋ {اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا …:} اس میں اللہ کی طرف رجوع کی اور گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کی ترغیب اور اپنی رحمت و مغفرت کی امید دلائی ہے، یعنی اگر تمھاری کوتاہیوں کی وجہ سے دلوں میں سختی پیدا ہو چکی ہے اور ان میں آیاتِ الٰہی سننے سے نرمی پیدا نہیں ہوتی تو اب بھی موقع ہے کہ اس کی تلافی کر لو، پھر جب تم پلٹ آؤ گے تو وہ اللہ جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے، وہ تمھارے مردہ دلوں کو بھی زندگی بخش دے گا۔