ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 75

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾
پس نہیں! میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں! En
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
En
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76،75) {فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ …: فَلَاۤ اُقْسِمُ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ {مَوَاقِعُ مَوْقِعٌ} کی جمع ہے جو { وَقَعَ يَقَعُ} سے ظرف ہے یا مصدر میمی، گرنے کی جگہیں۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں، یا شہابِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔