ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 5

وَّ بُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا ۙ﴿۵﴾
اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے،خوب ریزہ ریزہ کیا جانا۔ En
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں
En
اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا: بَسَّ يَبُسُّ بَسًّا} (ن) ریزہ ریزہ کرنا۔ { بَسًّا } مصدر کے ساتھ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا (105) فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106) لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۱۰۵ تا ۱۰۷] اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔