(آیت 6){ وَالنَّجْمُوَالشَّجَرُيَسْجُدٰنِ:”النَّجْمُ“} کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں، جیسے گندم، جو، چنے، جڑی بوٹیاں، بیلیں، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ یہ {”الشَّجَرُ“} کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۱۸)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔