(آیت 44) {يَطُوْفُوْنَبَيْنَهَاوَبَيْنَحَمِيْمٍاٰنٍ: ”اٰنٍ“”أَنٰييَأْنِيْإِنًي“} (ض) سے اسم فاعل ہے، جیسا کہ {”قَاضٍ“} ہے، انتہائی گرم، کھولنے والا۔ سورۂ غاشیہ میں ہے: «تُسْقٰىمِنْعَيْنٍاٰنِيَةٍ» [الغاشیۃ:۵]”وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔“ {”إِنًي“} کھانے کا پک کر تیار ہونا، جیسے فرمایا: «غَيْرَنٰظِرِيْنَاِنٰىهُ»[الأحزاب: ۵۳]”اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں۔“ {”يَطُوْفُوْنَ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۶ تا ۶۸)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔