(آیت 27) {وَيَبْقٰىوَجْهُرَبِّكَذُوالْجَلٰلِوَالْاِكْرَامِ: ”الْجَلٰلِ“} کا معنی عظمت و کبریائی ہے اور {”الْاِكْرَامِ“”أَكْرَمَيُكْرِمُ“} (افعال) کا مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے {”ذُوالإِْكْرَامِ“} ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ عزت دینے والا وہی ہے، کوئی اور نہیں، جیسے فرمایا: «وَمَنْيُّهِنِاللّٰهُفَمَالَهٗمِنْمُّكْرِمٍ» [الحج: ۱۸]”اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔“ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، اس کے بندے اس کی توحید و تسبیح اور عبادت کے ساتھ اس کا اکرام کرتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔