(آیت 26){ كُلُّمَنْعَلَيْهَافَانٍ:”فَانٍ“”فَنِيَيَفْنٰيفَنَاءً“} (س) سے اسم فاعل ہے۔ اس سے پہلے آیت (۱۰) میں زمین کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے بعد زمین پرموجود چیزوں کا ذکر فرمایا، جس میں جن و انس بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کے رنگا رنگ نمونے بھی۔ اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے کسی کو بھی بقا و دوام حاصل نہیں، سب فنا ہونے والے ہیں۔ بقا و دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے لیے ہے۔ (دیکھیے آلِ عمران: ۱۸۵۔ فرقان: ۵۸) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۸۸) کی تفسیر۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔