(آیت 53،52) {وَكُلُّشَيْءٍفَعَلُوْهُفِيالزُّبُرِ …: ”مُسْتَطَرٌ“”مَسْطُوْرٌ“} کے معنی میں ہے۔ افتعال کی تاء کی وجہ سے معنی میں مبالغہ مقصود ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات بہت اچھی طرح لکھی ہوئی ہے، مراد اعمال نامے ہیں۔ یعنی ان مجرموں نے جو کچھ کیا ہے سب دفتروں میں درج ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۴۹) اور سورۂ انفطار (۱۰ تا۱۲)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔