(آیت 5){ حِكْمَةٌۢبَالِغَةٌفَمَاتُغْنِالنُّذُرُ: ”بَالِغَةٌ“} کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے، مراد انتہا اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے۔ {”النُّذُرُ“”نَذِيْرٌ“} کی جمع ہے، ڈرانے والی چیزیں۔ {”نَذِيْرٌ“} مصدر بھی ہو سکتا ہے، جس طرح {”نَكِيْرٌ“} ہے، یعنی تنبیہات، ڈراوے۔ {”حِكْمَةٌ“} پچھلی آیت میں مذکور {”مَافِيْهِمُزْدَجَرٌ“} سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۱)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔