ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 5

حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۵﴾
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ En
اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا
En
اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5){ حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ: بَالِغَةٌ } کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے، مراد انتہا اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے۔ { النُّذُرُ نَذِيْرٌ} کی جمع ہے، ڈرانے والی چیزیں۔ {نَذِيْرٌ} مصدر بھی ہو سکتا ہے، جس طرح {نَكِيْرٌ} ہے، یعنی تنبیہات، ڈراوے۔ { حِكْمَةٌ } پچھلی آیت میں مذکور { مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ } سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۱)۔