ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 43

اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ ﴿ۚ۴۳﴾
کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟ En
(اے اہل عرب) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے
En
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) ➊ { اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ:} یہ خطاب قریش کے لوگوں سے ہے کہ ان اقوام پر کفر و تکذیب کے نتیجے میں یہ عذاب آئے، اگر تم کفر اختیار کرو گے تو کیا تم میں سے کفر کرنے والے کسی بھی لحاظ سے ان سے بہتر ہیں کہ ان پر عذاب نہیں آئے گا؟ استفہام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں ہے۔ قریش کے علاوہ قیامت تک کے تمام لوگ بھی اس کے مخاطب ہیں، کیونکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت ہیں۔
➋ {اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ:} یا پہلی آسمانی کتابوں میں تمھارے متعلق لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو، تم پر پہلی قوموں کی طرح عذاب نہیں آئیں گے؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں۔