ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 42

کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾
انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلادیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔ En
انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے
En
انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ …: عَزِيْزٍ } سب پر غالب، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ { مُقْتَدِرٍ قَدَرَ يَقْدِرُ} (ض) سے باب افتعال ہے، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے { مُقْتَدِرٍ } میں { قَادِرٌ } اور{ قَدِيْرٌ } کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی طرح عاجز نہیں۔ آلِ فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۰۲)۔