(آیت 42) {كَذَّبُوْابِاٰيٰتِنَاكُلِّهَافَاَخَذْنٰهُمْ …: ”عَزِيْزٍ“} سب پر غالب، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ {”مُقْتَدِرٍ“”قَدَرَيَقْدِرُ“} (ض) سے باب افتعال ہے، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے {”مُقْتَدِرٍ“} میں {”قَادِرٌ“} اور{”قَدِيْرٌ“} کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی طرح عاجز نہیں۔ آلِ فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۰۲)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔