ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 37

وَ لَقَدۡ رَاوَدُوۡہُ عَنۡ ضَیۡفِہٖ فَطَمَسۡنَاۤ اَعۡیُنَہُمۡ فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۷﴾
اور بلاشبہ یقینا انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ En
اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
En
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) {وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ …: رَاوَدُوْهُ } باب مفاعلہ سے ہے۔ {مُرَاوَدَةٌ} نرمی اور ملائمت سے باربار مطالبہ کرنا، پھسلانا، بہکانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے۔ { ضَيْفِهٖ } سے مراد فرشتے ہیں جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ قوم کو ان کے آنے کا علم ہوا تو انھوں نے لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ { رَاوَدُوْهُ } کے لفظ سے ظاہر ہے کہ انھوں نے لوط علیہ السلام پر دھوکے، فریب، بہکانے، پھسلانے، دھونس اور دھاندلی کا ہر طریقہ آزمایا کہ کسی طرح ہی وہ دھوکے میں آ کر انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ جو اس مقصد کے لیے آئے تھے جب حد سے بڑھ گئے اور ان لڑکوں کو زبردستی چھیننے کے لیے گھر میں داخل ہونے لگے اور لوط علیہ السلام سخت گھبرا گئے تو فرشتوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ آپ تک کسی صورت نہیں پہنچ سکیں گے۔ (دیکھیے ہود: 81،80) اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، انھیں اندھا کر دیا کہ بڑا عذاب آنے سے پہلے میرے اس عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو۔