ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 36

وَ لَقَدۡ اَنۡذَرَہُمۡ بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ ﴿۳۶﴾
اور بلاشبہ یقینا اس نے انھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تو انھوں نے ڈرانے میں شک کیا۔ En
اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا
En
یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والوں کے بارے میں (شک وشبہ اور) جھگڑا کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) {وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ: تَمَارٰي يَتَمَارٰي تَمَارِيًا} (تفاعل) شک کرنا، جھگڑنا۔ لام اور {قَدْ} کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کی قوت رکھتی ہے، یعنی قسم ہے کہ لوط علیہ السلام نے انھیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، مگر انھوں نے اس ڈرانے پر یقین نہیں کیا، بلکہ شک میں پڑے رہے اور اس کے متعلق بحث اور جھگڑا ہی کرتے رہے۔