ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 35

نِّعۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ شَکَرَ ﴿۳۵﴾
اپنی طرف سے انعام کرتے ہوئے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے۔ En
اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
En
اپنے احسان سے ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) {نِعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا......:} اس میں اپنی نعمت کی عظمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو اس عذاب سے بچانا ہماری خاص نعمت تھی۔ اس سے اگلے جملے { كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ } سے ان کی اس نعمت کا اہل بننے کی وجہ بھی معلوم ہو رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے: اس لیے ہم نے انہیں اس عظیم نعمت سے نوازا، جیسا کہ فرمایا «لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ» [ابراہیم: ٧] بے شک اگر تم شکر کر و گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا۔ اور صرف انہی کو نہیں بلکہ جو بھی ہماری نعمتوں کی قدر کرے ہم اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔