(آیت 29) {فَنَادَوْاصَاحِبَهُمْفَتَعَاطٰىفَعَقَرَ: ”فَتَعَاطٰى“”عَطَايَعْطُوْعَطْوًا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا۔ {”تَعَاطَيالشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا اور {”تَعَاطَيالْأَمْرَ“} کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح علیہ السلام نے انھیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انھیں سچا جانتے تھے، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خائف تھے، لیکن آخرکار صبر نہ کر سکے اور انھوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے، فرمایا: «اِذِانْۢبَعَثَاَشْقٰىهَا»[الشمس: ۱۲]”جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔“ چنانچہ سب نے مل کر اسے مدد کے لیے پکارا کہ تو بڑا بہادر اور جری ہے۔ اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ مزید دیکھیے سورۂ شمس (۱۱،۱۲) کی تفسیر۔ {”فَتَعَاطٰى“} کا مفعول محذوف ہے: {”أَيْتَعَاطَيالسَّيْفَ“} (اس نے تلوار پکڑی) {”أَوْتَعَاطَيالْأَمْرَ“} (یا اس نے اس کام کا ذمہ اٹھایا)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔