مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النجم (53) — آیت 35

اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے؟ پس وہ دیکھ رہا ہے۔
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے
کیا اسے علم غیب ہے کہ وه (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35){ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى:} یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے، کیا اس کے پاس علمِ غیب کی دوربین (آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے؟

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔