ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النجم (53) — آیت 22

تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی ﴿۲۲﴾
یہ تو اس وقت نا انصافی کی تقسیم ہے۔ En
یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے
En
یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22){ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى: ضِيْزٰى ضَازَ يَضِيْزُ ضَيْزًا} (ض) سے {فُعْلٰي} (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو {أَفْعَلُ} (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے۔ اس کا معنی {شَدِيْدُ الضِّيْزِ} (سخت ناانصافی والی) ہے۔ ضاد کے ضمہ کو یاء کی موافقت کے لیے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لیے اولاد بتانا، پھر اپنے لیے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکیاں پسند کرنا، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔