(آیت 22){ تِلْكَاِذًاقِسْمَةٌضِيْزٰى: ”ضِيْزٰى“”ضَازَيَضِيْزُضَيْزًا“} (ض) سے {”فُعْلٰي“} (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو {”أَفْعَلُ“} (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے۔ اس کا معنی {”شَدِيْدُالضِّيْزِ“} (سخت ناانصافی والی) ہے۔ ”ضاد“ کے ضمہ کو ”یاء“ کی موافقت کے لیے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لیے اولاد بتانا، پھر اپنے لیے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکیاں پسند کرنا، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔