ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الطور (52) — آیت 15

اَفَسِحۡرٌ ہٰذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۵﴾
تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟ En
تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا
En
(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15){ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ:} یعنی جس طرح تم دنیا میں ہر معجزے کو جادو کہہ کر جھٹلا دیتے تھے، اب اس آگ کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دو، تو بتاؤ کیا یہ جادو ہے؟ یا جس طرح تم دنیا میں کہتے تھے: «‏‏‏‏وَ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ» ‏‏‏‏ [حٰمٓ السجدۃ: ۵] کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ایک پردہ ہے، جو کچھ تم بتاتے ہو ہمیں دکھائی نہیں دیتا، تو بتاؤ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ رہے؟ یہ ساری بات کفار کو دنیا میں ان کی جھٹلانے کے لیے کہی ہوئی باتیں یاد کروا کر ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔