ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 54

فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ ﴿٭۫۵۴﴾
سو تو ان سے منہ پھیر لے، کیونکہ تو ہر گز کسی طرح ملامت کیا ہوا نہیں۔ En
تو ان سے اعراض کرو۔ تم کو (ہماری) طرف سے ملامت نہ ہوگی
En
(نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں۔ تو آپ ان سے منھ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54){ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ:} یعنی جب وہ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں اور حق واضح ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے پر تیار نہیں تو آپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ انھی کے پیچھے پڑے رہیں، بلکہ آپ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ آپ کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب اگر وہ اسے قبول نہیں کرتے تو آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۸) کی تفسیر۔