ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 50

فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۵۰﴾
پس دوڑو اللہ کی طرف، یقینا میں تمھارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں
En
پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ {فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ:} یعنی جب آسمان و زمین اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر اور تمھیں دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت پر دلالت کر رہی ہے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی طرف دوڑو، کفر کو ترک کرکے توحید کی طرف آؤ اور گناہوں سے توبہ کرکے اس کی رحمت کی پناہ میں آ جاؤ۔
➋ { اِنِّيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلِيْ وَ مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی قَوْمًا فَقَالَ رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَ إِنِّيْ أَنَا النَّذِيْرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ فَأَطَاعَتْهُ طَائِفَةٌ فَأَدْلَجُوْا عَلٰی مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْهُ طَائِفَةٌ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَاجْتَاحَهُمْ] [بخاري، الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصي: ۶۴۸۲] میری مثال اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دے کر مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں، (عرب کا قدیم دستور تھا کہ دشمن کے حملے سے خبردار کرنے والا شخص کپڑے اتار دیتا اور ننگا ہو کر چیخ چیخ کر حملے سے ڈراتا) اس لیے دوڑو، دوڑو۔ تو ایک گروہ نے اس کی بات مان لی اور آرام کے ساتھ اندھیرے میں چل پڑے اور بچ کر نکل گئے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا تو لشکر نے صبح صبح ان پر حملہ کیا اور انھیں تباہ و برباد کر دیا۔