ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 45

فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِیَامٍ وَّ مَا کَانُوۡا مُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
پھر نہ انھوں نے کسی طرح کھڑے ہونے کی طاقت پائی اور نہ وہ بدلہ لینے والے تھے۔ En
پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے
En
پس نہ تو وه کھڑے ہو سکے اور نہ بدلہ لے سکے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45){ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ …: مُنْتَصِرِيْنَ اِنْتِصَارٌ} کے لفظ میں اپنے آپ کو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی شامل ہے اور بدلا لینے کا بھی۔ یعنی جب وہ عذاب کے تھپیڑے سے زمین پر گرے تو پھر نہ کسی طرح اٹھ سکے اور نہ اس سے بچاؤ کر سکے، بدلا لینا تو بہت دور کی بات ہے۔