ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 15

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾
بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ En
بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے
En
بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15){ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ:} مکذبین کے بعد متقین کا ذکر فرمایا۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۴۵) کی تفسیر۔ آیت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جنتوں میں داخلے کا سبب تقویٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» ‏‏‏‏ [مریم: ۶۳] یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔