ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 13

یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾
جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ En
اُس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا
En
ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ: فَتَنَ يَفْتُنُ} (ن،ض) کا معنی آزمانا بھی ہے اور جلانا بھی۔ کھرے یا کھوٹے کی پہچان کے لیے سونے کو آگ میں پگھلایا جائے تو کہتے ہیں: {فَتَنْتُ الذَّهَبَ۔} فرمایا، وہ روزِ جزا اس دن ہو گا جب انھیں آگ پر رکھ کر تپایا اور جلایا جائے گا۔