ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 12

یَسۡـَٔلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہے؟ En
پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟
En
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) {يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِ:} یعنی جب انھیں قیامت کے انکار کی کوئی معقول دلیل نہیں ملتی تو وہ کہتے ہیں، اچھا یہ بتاؤ جزا کا دن کب ہے؟ ظاہر ہے ان کا یہ سوال محض انکار اور استہزا کے لیے ہے، کیونکہ تاریخ کا تعین کوئی دلیل نہیں جس سے کوئی منکر اقرار پر آمادہ ہو جائے، بلکہ اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہو گا کہ اس کے آنے سے پہلے آخر ہم یہ یقین کیسے کر لیں کہ اس دن وہ واقعی آ جائے گی؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا وقت نہیں بتایا۔