ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 10

قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
اٹکل لگا نے والے مارے گئے۔ En
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
En
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ: خَرَصَ يَخْرُصُ خَرْصًا} (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» [الزخرف: ۲۰] وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ {خَرَّاصٌ} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفا رکے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لیے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں، ان کا سارا دار و مدار ظن و تخمین اور وہم و گمان پر ہے۔ چنانچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں پر ہے (دیکھیے نجم: ۲۳، ۲۸) اور قیامت کا انکار بھی محض خرص و تخمین (اٹکل اور اندازوں) پر ہے۔ ظاہر ہے اٹکل اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اس لیے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔