(آیت 10){ قُتِلَالْخَرّٰصُوْنَ: ”خَرَصَيَخْرُصُخَرْصًا“} (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا: «اِنْهُمْاِلَّايَخْرُصُوْنَ»[الزخرف: ۲۰]”وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔“ {”خَرَّاصٌ“} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفا رکے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لیے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں، ان کا سارا دار و مدار ظن و تخمین اور وہم و گمان پر ہے۔ چنانچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں پر ہے (دیکھیے نجم: ۲۳، ۲۸) اور قیامت کا انکار بھی محض خرص و تخمین (اٹکل اور اندازوں) پر ہے۔ ظاہر ہے اٹکل اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اس لیے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔