ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ق (50) — آیت 22

لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾
بلاشبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کر دیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔ En
(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے
En
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ {لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا: غَفْلَةٍ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی غفلت کیا گیا ہے۔ یہاں یہ الفاظ محذوف ہیں کہ ہر کافر و مشرک سے کہا جائے گا کہ…۔ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ { كُلُّ نَفْسٍ } سے مراد کفار ہیں، کیونکہ وہی آخرت سے غافل ہیں، مومن تو آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کی فکر میں رہتے ہیں۔ کفار کو یہ بات ذلیل کرنے کے لیے طنز کے طور پر کہی جائے گی۔
➋ { فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ …:} یعنی تیری آنکھوں پر پڑا ہوا غفلت کا پردہ، جس کی وجہ سے تو آخرت کا انکار کرتا تھا، وہ پردہ اب ہم نے دور کر دیا ہے، اس لیے تیری نظر تیز ہو چکی ہے اور تو اپنی آنکھوں کے ساتھ ان تمام حقیقتوں کو دیکھ سکتا ہے جن کا انکار کر تا تھا۔