ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ق (50) — آیت 11

رِّزۡقًا لِّلۡعِبَادِ ۙ وَ اَحۡیَیۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ؕ کَذٰلِکَ الۡخُرُوۡجُ ﴿۱۱﴾
بندوں کو روزی دینے کے لیے اور ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح نکلنا ہے۔ En
(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا۔ (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے
En
بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے پانی سے مرده شہر کو زنده کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11){ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ:} یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھنے میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے، جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں، پھر یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں، گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔