اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔
En
اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا
اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو حق ہم کو پہنچا ہے اس پر ایمان نہ ﻻئیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کردے گا
En
(آیت 84) {مَعَالْقَوْمِالصّٰلِحِيْنَ:} اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں {”وَنَطْمَعُ“} کا عطف {”لَانُؤْمِنُ“} پر ہو گا اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ{ ”وَنَطْمَعُ“} کا جملہ {”لَانُؤْمِنُ“} کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔