ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المائده (5) — آیت 81

وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾
اور اگر وہ اللہ اور نبی پر اور اس پر ایمان رکھتے ہوتے جو اس کی طرف نازل کیا گیا ہے تو انھیں دوست نہ بناتے اور لیکن ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔ En
اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں
En
اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور نبی پر اور جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے، لیکن ان میں کے اکثر لوگ فاسق ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) {وَ لَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ……:} یعنی اگر وہ واقعی اﷲ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام) پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔