ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المائده (5) — آیت 53

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ اِنَّہُمۡ لَمَعَکُمۡ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾
اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی تھی کہ وہ یقینا تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال ضائع ہوگئے، پس وہ خسارہ اٹھانے والے ہوگئے۔ En
اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے
En
اور ایمان والے کہیں گے، کیا یہی وه لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہوگئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) {وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا ……:} یعنی مسلمان جب جنگ کے وقت منافقین کو یہود و کفار کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہم سے پکی قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور کفار کے دشمن ہیں!! اب ان کی حقیقت کھل گئی۔