ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المائده (5) — آیت 47

وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور لازم ہے کہ انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ En
اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں
En
اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کرده سے ہی حکم نہ کریں وه (بدکار) فاسق ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) {وَ لْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ……:} اہل انجیل کا اس کے مطابق جو اﷲ نے نازل کیا ہے، فیصلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر لازم ہے کہ انجیل میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیش گوئیاں اور دلائل اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ ان کو چھپانے یا ان کی غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ انجیل کے حکم کے مطابق مسلمان ہو جائیں اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کریں اور جو اﷲ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ نافرمان ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اترا ہوا اﷲ کا حکم نہیں مانا۔