میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
En
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر مطلع رہا۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے
En
(آیت 117) ➊ { اَنِاعْبُدُوااللّٰهَ …:} یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا سب کا رب ہے۔ ➋ {فَلَمَّاتَوَفَّيْتَنِيْ:} اس آیت سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عیسیٰ علیہ السلام یہ بیان قیامت کے دن دیں گے جب وہ زمین پر آنے کے بعد اپنی عمر پوری کر کے فوت ہو چکے ہوں گے۔ اگر اصرار کیا جائے کہ {”تَوَفَّيْتَنِيْ“} سے مراد پہلا وقت ہے، جب انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے، ایک موت، جیسے: «اَللّٰهُيَتَوَفَّىالْاَنْفُسَحِيْنَمَوْتِهَا» [الزمر: ۴۲]”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ دوسرے نیند، جیسے: «{وَهُوَالَّذِيْيَتَوَفّٰىكُمْبِالَّيْلِ}» [الأنعام: ۶۰]”اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا ہے۔“ تیسرے جسم سمیت اٹھا کر لے جانا، جیسے یہاں ہے اور سورۂ آل عمران (۵۵) اور سورۂ نساء (۱۵۸) میں ہے۔ ➌ {كُنْتَاَنْتَالرَّقِيْبَعَلَيْهِمْ …:} یعنی میں تو اس وقت تک کے ان کے ظاہری اعمال کی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان کے اندر موجود تھا، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر شہید ہے، یعنی ان میں میری موجودگی کے وقت بھی توہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھی تو ہی شہید ہے۔ شہید اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ شہادت دیکھنے، سننے اور جاننے کے معنی میں بھی ہو سکتی ہے اور کلام کے ساتھ شہادت دینے کے معنی میں بھی۔ (کبیر) مگر دوسروں کے حق میں مطلق شہید یا شاہد کا لفظ (جب کہ کوئی خاص قرینہ نہ ہو) توکلام کے ساتھ شہادت کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز اور ہر شخص کی ہر وقت خبر رکھنے والا ایک اللہ ہی ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری امت کے کچھ آدمیوں کو لایا جائے گا تو انھیں بائیں طرف کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: ”یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ تو کہا جائے گا: ”تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کیا نیا کام شروع کر دیا تھا۔“ تب میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: «وَكُنْتُعَلَيْهِمْشَهِيْدًامَّادُمْتُفِيْهِمْفَلَمَّاتَوَفَّيْتَنِيْكُنْتَاَنْتَالرَّقِيْبَعَلَيْهِمْوَاَنْتَعَلٰىكُلِّشَيْءٍشَهِيْدٌ» پھر کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ اپنی ایڑیوں پر پھرنے والے (مرتد) ہی رہے۔“[بخاری، التفسیر، باب: «وکنت علیہم…» : ۴۶۲۵]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔