اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم فرماں بردار ہیں۔
En
اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں
اور جب کہ میں نے حواریین کو حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان ﻻؤ، انہوں نے کہا کہ ہم ایمان ﻻئے اور آپ شاہد رہیئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں
En
(آیت 111) {وَاِذْاَوْحَيْتُاِلَىالْحَوَارِيّٖنَ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ علیہ السلام پر احسان تھا کہ حواریوں کو ان کا مخلص ساتھی اور مددگار بنا دیا۔ حواری کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں۔ یہاں {”اَوْحَيْنَاۤ“} کا معنی انبیاء والی وحی نہیں بلکہ الہام ہے، جو غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس پر بھی وحی کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے فرمایا: «وَاَوْحَيْنَاۤاِلٰۤىاُمِّمُوْسٰۤى» [القصص: ۷]”اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔“ حالانکہ قرآن مجید میں صاف آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا (کوئی عورت نبی نہیں ہوئی)۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۷) اسی طرح فرمایا: «وَاَوْحٰىرَبُّكَاِلَىالنَّحْلِ» [النحل: ۶۸]”اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔