(آیت 3) {وَيَنْصُرَكَاللّٰهُنَصْرًاعَزِيْزًا:} چوتھی اور آخری نعمت یہ ہے کہ ”نصرِ عزیز“کا ذکر اپنے سب سے باعظمت نام ”اللہ“ کے ساتھ فرمایا، تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائے گا جس سے آپ کو عزت و قوت اور غلبہ حاصل ہو گا اور آپ کے دشمن عاجز اور مغلوب ہو جائیں گے۔ یہاں مبالغے کے لیے ”عزیز“ کی نسبت ”نصر“ کی طرف فرمائی ہے، ورنہ عزیز تو اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہونا ہی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں: {”فُلاَنٌنَهَارُهُصَائِمٌوَلَيْلُهُقَائِمٌ“} ”فلاں کا دن روزہ رکھنے والا اور رات قیام کرنے والی ہے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔